ابنا: افغانستان اور پاکستان اس مشترکہ سرحدی کمیشن کے تحت طالبان کے اقدامات کو کنٹرول کریں گے اور سرحدوں پر امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کمیشن کے بارے میں وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ دورۂ کابل میں ابتدائي معاہدہ کیا گیا تھا۔ اسلام آباد اور کابل کے حکام کا کہنا ہے کہ مشترکہ سرحدوں پر نگرانی نہ ہونے کی بنا پر طالبان، تشدد آمیز اقدامات کررہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین ڈھائي ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے جس سے روزانہ چھّپن ہزار افراد رفت وآمد کرتے ہیں۔
.......
/169